اندھیرا گھات

Horror all age range 2000 to 5000 words Urdu

Story Content

کالاکوٹ کی گہری وادی میں، جہاں سورج کی روشنی شاذ و نادر ہی پہنچتی تھی، عائشہ ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے ماضی کی بازگشت کے ساتھ رہتی تھی۔
اس کے والد، ر حمٰن، پانچ سال قبل ایک کان حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ کانوں کی دھول اور اندھیرے نے ان کی زندگی نگل لی تھی۔ عائشہ کو سب سے پیاری آواز سے محروم کر دیا تھا۔
رحمٰن کی موت کے بعد سے عائشہ کی زندگی ایک اداس تصویر بن گئی تھی۔
لیکن پانچ سال بعد ایک عجیب سلسلہ شروع ہوا۔ عائشہ کو ہر ہفتے اپنے والد کے نمبر سے ایک وائس میسج موصول ہوتا۔
اس پیغام میں صرف سانس لینے کی آواز آتی...گہری اور خاموش سانس، اور اس سانس کے درمیان، اس کا نام، عائشہ۔
یہ آواز اس کے دل میں ایک خنجر کی طرح اترتی۔ وہ ہر بار خوف سے لرز اٹھتی۔ اس کے ماضی کے زخم پھر تازہ ہو جاتے۔
عائشہ نے یہ بات اپنے دوست علی سے ذکر کی۔ علی جو کہ ایک سوفٹ وئیر انجنیئر تھا، نے تسلی دیتے ہوئے کہا، 'کوئی غلطی ہو گی، کوئی ٹیکنیکل مسئلہ۔'
علی نے عائشہ کی سم کمپنی سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق وہ نمبر پچھلے پانچ سالوں سے بند تھا۔ یہ بات سن کر عائشہ کی دنیا گھوم گئی۔
عائشہ نے سوچا کہ اب کیا کیا جائے۔ وہ خود کو تنہا اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔
اس رات، عائشہ نے خواب میں اپنے والد کو دیکھا۔ رحمٰن ایک گہری اور تاریک سرنگ میں کھڑے تھے۔ انہوں نے عائشہ کو نام لے کر پکارا۔ ان کی آواز درد اور اذیت سے بھری ہوئی تھی۔
عائشہ نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی۔ پسینے سے شرابور اور خوف سے کانپ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ محض ایک خواب نہیں تھا۔ یہ اس کے والد کی طرف سے ایک پیغام تھا۔
اگلے دن، عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس راز سے پردہ اٹھائے گی۔ وہ کالاکوٹ کی کان میں گئی، جہاں اس کے والد نے آخری سانس لی تھی۔
کان کے باہر، وہ اس کے نگران جمیل سے ملی۔ جمیل ایک ضعیف آدمی تھا جس کے چہرے پر کان کی سختی کے آثار تھے۔
عائشہ نے جمیل سے اپنے والد کے بارے میں پوچھا۔ جمیل نے دکھ سے سر ہلایا اور کہا، 'رحمٰن ایک نیک انسان تھا۔ اس کا کان میں کوئی دشمن نہیں تھا۔'
عائشہ نے جمیل سے کان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
جمیل نے بتایا کہ کان میں بہت سے حادثات ہوئے ہیں، لیکن رحمٰن کا حادثہ سب سے پراسرار تھا۔
رحمٰن کے ساتھ کام کرنے والے کان کنوں کے مطابق، اس دن کان میں ایک عجیب سی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ کان کنوں کو سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔
رحمٰن کی آوازیں مدد کے لیے پکار رہی تھیں جو بعد میں خاموش ہو گئی اور پھر دوبارہ نہیں سنائی دیں۔
عائشہ کو محسوس ہوا جیسے تاریکی نے اس کی روح کو چھو لیا ہو۔ اسے رحمٰن کی موجودگی کا احساس ہو رہا تھا۔
عائشہ کان کے اندر داخل ہوئی۔ ٹارچ کی روشنی میں دھول اور مٹی کے ذرات ناچ رہے تھے۔ ہر قدم پر اسے اپنے والد کی یاد آرہی تھی۔
جیسے ہی عائشہ کان کی گہرائی میں اترتی گئی، تاریکی بڑھتی گئی۔ روشنی ماند پڑنے لگی اور آوازیں گونجنے لگیں۔
اچانک، عائشہ نے اپنے والد کی سانس لینے کی آواز سنی۔ یہ وہی آواز تھی جو اسے وائس میسج میں آتی تھی۔
وہ آواز کی سمت میں بڑھی۔ وہ ایک ایسی جگہ پر پہنچی جہاں ایک بڑا پتھر پڑا ہوا تھا۔ پتھر کے نیچے ایک سرنگ تھی۔
عائشہ سرنگ میں داخل ہوئی۔ سرنگ تنگ اور تاریک تھی۔ ہوا میں نمی اور دھول تھی۔
جیسے جیسے وہ آگے بڑھی، سانس لینے کی آواز قریب آنے لگی۔ پھر اس نے اپنے والد کی آواز سنی، 'عائشہ...'
عائشہ نے دیکھا کہ سرنگ کے آخر میں ایک روشنی ہے۔ وہ روشنی کی طرف بڑھی۔
روشنی میں پہنچ کر عائشہ نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ اس کے والد ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
رحمٰن نے عائشہ کو گلے لگایا اور کہا، 'میں یہاں محفوظ ہوں۔ تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔'
عائشہ حیرت زدہ تھی۔ اس نے پوچھا، 'یہ سب کیا ہے؟ آپ زندہ کیسے ہیں؟'
رحمٰن نے جواب دیا، 'جب کان میں حادثہ ہوا تو میں نے ایک سرنگ دریافت کی۔ اس سرنگ میں ایک اور دنیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں موت نہیں ہے۔'
عائشہ نے رحمٰن کے ساتھ اس نئی دنیا میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کالاکوٹ کی گہری وادی کو چھوڑ کر ایک ایسی جگہ چلی گئی جہاں ہمیشہ روشنی تھی۔
کیا واقعی رحمٰن زندہ تھے، یا یہ اندھیرے کی گہری چال تھی، یہ ایک معمہ بن کر رہ گیا۔